سی ایس ایس امتحان، رزلٹ اور سلیکشن

 سی ایس ایس ایک امتحان ۔۔۔ آج کل میں ایک حقیقت۔۔۔ کس طرح سبجیکٹ سلیکٹ کئے جائیں۔۔

سی ایس ایس امتحان
یہ ذہن میں رہے کہ سی ایس ایس میں سلیکشن ننانوے فیصد میرٹ پر ہوتی ہے، ایسے بھی طالب علم تھے جن کے پاس پہننے کو جوتے نہیں تھےانہوں نے بھی سی ایس ایس پاس کیا ، ایسے طالب علم بھی تھے جو ٹیویشن پڑھاتے تھے اور ساتھ ہی ساتھ سی ایس ایس کی تیاری بھی کرتے تھے، ایسے بھی تھے جنہوں نے مشکلات کے باجود بھی سی ایس ایس کیاایسے لوگوں کی مشکلات ہی ان کی طاقت بنتی ہے ۔ یہ ممکن ہے کہ کسی کا تعلق کھاتے پیتے گھرانے سے ہو اس کے پاس ہر طرح اسائشیں ہوں لیکن وہ امتحان میں رہ جائے ۔ سی ایس ایس ایک مزاج ہے جس میں بندہ پڑھتا ہے ، لکھتا ہے اور سیکھتا ہے۔اس امتحان میں کامیابی اسی کو ملتی ہے جو آخر تک تیاری کرتا رہتا ہے اگر کوئی یہ کہے کہ میں نے چارماہ دل لگا کر تیار ی کی ہے اب کچھ ریسٹ کر لیاجائے پھر نئے جذبےکے تحت تیاری کروں گا ایسے شخص کےلیے امتحان پاس کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
اگر سی ایس ایس کے امتحان میں بیس ہزار لوگ اپلائی کرتےہیں توتین چار ہزار لوگ امتحان میں بیٹھتے ہی نہیں ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ پریشر کو مینج نہیں کر پاتے۔ جو امتحان دینا چاہتا ہے اسے سمجھنا چاہیے کہ اس امتحان کے تین چانس ہیں اگر نہ دیا یہ تب بھی ضائع ہو جائیں گے اگر دیا اور پاس نہ ہوسکا تب بھی ضائع ہو جائیں گے بہتر یہ ہے کہ امتحان دیا جائے ۔جس شخص کے ذہن میں یہ بیٹھ جائے اگر پاس نہ ہوسکا تو کیا ہوگا اس سے دماغ میں پریشر آجاتا ہے جس کی وجہ سے اس کی آدھی توانائی ضائع ہو جاتی ہے کیو نکہ جلدی ،گھبراہٹ اور غصہ ان تین حالتوں میں بندہ غلطی کرتا ہے اگران تینوں کو مینج کیا جائے تو تیاری میں آسانی ہو جاتی ہے ۔ گروپ سٹڈی کرنی چاہیے اس سےیہ آسانی ہو تی ہے کہ گروپ میں کسی کو ایک مضمون کے بارے میں کچھ بھی پتا نہیں ہے دوسرے کے بتانےسے اس کےعلم میں بھی اضافہ ہو جائے گا اور پھر نفسیات یہ کہتی ہے کہ بندہ جب دوسرے کو بتاتا ہے تو وہ انسان کی میموری میں محفوظ ہونا شروع ہو جاتا ہے پھر وہ چیز بھولتی نہیں ہے۔ اچھی تیاری کے لیے بہتر یہ ہے کہ جو کچھ پڑھا ہے اس کا بار بار ٹیسٹ دیا جائے اس سے تیار ی میں آسانی ہو گی۔ روزکسی ایک انگلش اخبار کو ضرور پڑھنا چاہیے لیکن اس کو ذہن پر سوار نہ کیا جائے کہ مجھے روز اخبار پڑھنا ہے بلکہ اس کو انجوائے کریں۔ جوشخص امتحان دینا چاہتا ہے اسے چاہیے کہ خود سے تیاری کرنے کی بجائے کسی اچھے استاد سے پڑھے اور تیاری کرے اس سے یہ فائدہ ہوگا کہ ایک روٹین بن جائے گی لیکن کسی ایسی جگہ نہ جائیں جو سبز باغ بیچ رہے ہوں لیکن اگر کسی سے تیاری نہیں کرنا چاہتے تو کم ازکم انگلش کی تیاری کسی اچھے استاد سے ضرروکریں کیو نکہ نوئے فیصد ایسے طالب علم ہوتے ہیں جن کو انگلش کی تیاری ضرورت ہوتی ہے ۔
آپشنل مضمون ریوائز ہو گئے ہیں اور جو لازمی ہیں وہ اسی طرح ہیں برصغیر کی تاریخ کے پہلے دوسو نمبر ہوتے تھے اب سو کر دیئے گئے ہیں ۔ انٹرنیشنل ریلیشن کے بارے میں سب سے زیادہ معلوم ہونا چاہیے ،پاکستان افیئر کے سونمبر ہیں اس میں بھی ستر سے اسی نمبر کا تعلق انٹرنیشنل ریلیشن سے ہے جبکہ انٹرنیشنل ریلیشن کے خود دوسو نمبر ہیں پھر انٹرنیشنل لاء آجاتاہے ۔ نئے مضامین میں جنڈر سٹدیز نیا مضمون آیا ہے یہ خواتین کے حقوق کے بارے میں ہے یہ مضمون قدرے آسان ہے اسی طرح سوشیالوجی بھی آسان مضمون ہے ۔پہلے لوگ عربی اور فارسی رکھتے تھے ان کے دوسو نمبر ہوتے تھے اب ان دونوں مضامین کو سایئڈ پر کر دیا گیا ہے اب ان کے سو نمبر کر دیئے ہیں۔ علاقائی زبان کوضرور رکھیں اس سے یہ فائدہ ہوتا ہے کہ جو پروفیسرز صاحبان ہوتےہیں ان کی اپنی اس زبان سے وابستگی ہوتی ہے اور وہ اپنے مضمون کو پرموٹ کرتے ہیں۔اگر کسی طالب علم کا سائنس کا بیک گراؤنڈ ہے تو اس کو چاہیے کہ انوائرمینٹل سائنسز نیا مضمون ہے اس کو رکھیں اس کے ساتھ ٹاؤن پلاننگ رکھیں اس میں یہ ہوگا کہ ایک مضمون کا پڑھا ہوا دوسرے مضمون میں کام آتا ہے۔
(CSS Exam, Qasim Ali Shah with Dr. Munawar Sabir Sb)